مواد پر جائیں

133دن11گھنٹے40منٹبسنت 2027 تک

گائیڈز · پتنگ کا کاغذ

پتنگ کا کاغذ: جرمن پیپر، رم کا کاغذ اور لاہور کی کاغذ مارکیٹ

لاہوری پتنگیں تقریباً 16 سے 24 گرام کے پتلے، رنگین ٹشو جیسے کاغذ سے بنتی ہیں، جو شیٹ میں اور 480 شیٹ کے رم میں بکتا ہے۔ "جرمن پیپر" درآمد شدہ کاغذ کا پرانا تجارتی نام ہے۔ اکتوبر 2026 میں ایک مینوفیکچرر کے مطابق ایک رم 7,000 تا 14,000 روپے تک پہنچ گیا۔

بسنت 2027 ایک نظر میں

ہمارے حقائق کے جدول سے مختصر جوابات۔ ہر جواب کے ساتھ اس کا ماخذ اور آخری تصدیق کی تاریخ موجود ہے۔

  • پتنگ کا کاغذ کیا ہے؟

    20 × 30 انچ کی شیٹ

    تقریباً 16 تا 24 گرام کا پتلا ٹشو جیسا کاغذ؛ پتنگ ساز اس شیٹ کو تاء کہتے ہیں۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)تفصیل اور حوالہ

    لاہوری پتنگ کا کاغذ پتلا، ہلکا اور رنگین ٹشو جیسا کاغذ ہے: لاہور کے پتنگ ساز تقریباً 16 سے 24 گرام کا کاغذ پسند کرتے ہیں، جو زیادہ تر 20 × 30 انچ کی شیٹ میں بکتا ہے، جسے وہ تاء کہتے ہیں۔ ان کے مطابق کبھی جرمنی اور انگلینڈ سے درآمد شدہ کاغذ سب سے مقبول تھا، پھر سستا چینی کاغذ آیا اور پھر پاکستانی کارخانے بڑی مقدار میں پتنگ کا کاغذ بنانے لگے۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)ماخذ: Amjad Parvaiz

  • سامان کتنے کا ہے؟

    ایک رم 7,000 تا 14,000 روپے

    پتنگ کا کاغذ، پہلے 3,200 تا 3,800 روپے: ایک مینوفیکچرر کے اعداد، ہماری قیمتیں نہیں۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)تفصیل اور حوالہ

    اکتوبر 2026 میں لاہور کے ایک لائسنس یافتہ پتنگ اور ڈور ساز نے ڈان کو بتایا کہ بسنت 2027 کی تاریخ بدلنے کے بعد خام مال مہنگا ہو گیا: پتنگ کے کاغذ کا 480 شیٹ والا رم 3,200 تا 3,800 روپے سے 7,000 تا 14,000 روپے، بنگلہ دیش سے درآمد شدہ بانس کا ایک گٹھا 12,000 تا 15,000 روپے سے 25,000 تا 28,000 روپے، اور دھاگا برانڈ کے حساب سے 2,800 روپے سے 4,800 تا 6,500 روپے ہو گیا، جبکہ مزدوری دگنی ہو گئی۔ یہ ایک مینوفیکچرر کے اعداد ہیں، مارکیٹ سروے نہیں، اور ہماری قیمتیں نہیں۔

    رپورٹ شدہ (ایک ماخذ)ماخذ: Dawn

  • کتنے پتنگ سازوں کو لائسنس ملا؟

    5,200 سے زائد لائسنس یافتہ

    10 اکتوبر 2026 تک 6,000 سے زائد درخواستوں میں سے۔

    تصدیق شدہتفصیل اور حوالہ

    10 اکتوبر 2026 تک لاہور کے ڈپٹی کمشنر آفس کو بسنت 2027 کے لیے پتنگ اور ڈور سازی کے لائسنس کی 6,000 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں اور 5,200 سے زائد لائسنس جاری ہو چکے تھے؛ تقریباً 500 درخواستوں کی تصدیق جاری تھی اور تقریباً 300 مسترد ہو چکی تھیں۔ بسنت 2026 کے لیے 1,605 افراد نے درخواست دی تھی اور 1,337 کو لائسنس ملا تھا۔

    تصدیق شدہماخذ: The Nation

اس صفحے پر

پتنگ کا کاغذ کیا ہوتا ہے؟

پتنگ کا کاغذ وہ پتلا، ہلکا اور رنگین ٹشو جیسا کاغذ ہے جسے لاہور کے پتنگ ساز بانس کے ڈھانچے پر تان کر چپکاتے ہیں؛ وہ تقریباً 16 سے 24 گرام کی شیٹ پسند کرتے ہیں۔

تفصیل پڑھیں

ہلکا کاغذ اس لیے ضروری ہے کہ لاہوری پتنگ پیچ لڑانے والی پتنگ ہے: اسے ڈور کے ہلکے سے اشارے پر بھی جواب دینا ہوتا ہے۔ یہی کاغذ پتنگ کو اس کی شکل دیتا ہے۔ پتنگ پر چاند، پٹیاں اور تارے دوسرے رنگ کے کاغذ سے کاٹ کر چپکائے جاتے ہیں، پھمن تہہ کیے ہوئے کاغذ سے کاٹا جاتا ہے، اور کاغذ کی پتلی ٹیپ (چیپی) کمزور جگہوں کو بند کرتی ہے۔ پتنگ کے سائز بھی کاغذ کے حساب سے ہیں: تاوا شیٹ کے نام پر ہے (دیکھیں پتنگ کے سائز)۔

پتنگ کے لیے جرمن پیپر کیا ہے؟

"جرمن پیپر" لاہور کی پتنگ تجارت میں درآمد شدہ کاغذ کا نام ہے، اس کاغذ کے نام پر جو کبھی جرمنی اور انگلینڈ سے آتا تھا اور پتنگ سازوں کے مطابق سب سے مقبول تھا؛ آج اس نام سے کیا بکتا ہے، یہ کہیں درج نہیں، اس لیے دکاندار سے پوچھیں کہ کاغذ کہاں بنا ہے۔

تفصیل پڑھیں

پنجاب یونیورسٹی کے ایک محقق سے بات کرنے والے لاہور کے پتنگ سازوں نے بتایا کہ چند دہائیاں پہلے جرمنی اور انگلینڈ سے آنے والا کاغذ سب سے مقبول تھا، پھر سستا چینی کاغذ آیا، اور پھر پاکستانی کارخانے بڑی مقدار میں پتنگ کا کاغذ بنانے لگے۔ یہ نام تجارت میں بہتر درجے کی پہچان کے طور پر رہ گیا، جیسے "دیسی" مقامی کاغذ کی پہچان ہے۔

جس کی تصدیق نہیں ہو سکی

ہمیں کوئی شائع شدہ ذریعہ نہیں ملا جو بتائے کہ آج کا "جرمن پیپر" کہاں بنتا ہے یا کتنے کا ہے۔ اس نام کو دکاندار کا درجہ سمجھیں، ضمانت نہیں: شیٹ کو خود پرکھیں اور پوچھیں کہ یہ کہاں بنی ہے۔

  • وزن: شیٹ جتنی ہلکی ہو، پتنگ اتنی جلد جواب دیتی ہے؛ پتنگ ساز تقریباً 16 سے 24 گرام کا کاغذ چاہتے ہیں۔
  • یکسانی: شیٹ کو روشنی میں دیکھیں؛ پتلی جگہیں اور باریک سوراخ ہوا میں پھٹ جاتے ہیں۔
  • رنگ: اچھا کاغذ گوند لگنے پر بھی اپنا رنگ رکھتا ہے اور ساتھ والی شیٹ پر رنگ نہیں چھوڑتا۔

پتنگ کا کاغذ کیسے بکتا ہے: شیٹ، دستہ یا رم؟

پتنگ کا کاغذ شیٹ، دستے اور رم میں بکتا ہے؛ لاہور کے ایک مینوفیکچرر کے مطابق ایک رم 480 شیٹ کا ہوتا ہے، وہی چھوٹا رم جس میں ٹشو پیپر پرانے وقتوں سے بکتا آیا ہے۔

پتنگ کا کاغذ کیسے گنا جاتا ہے
اکائیکیا ہےنوٹ
شیٹ (تاء)20 × 30 انچ کی ایک شیٹاسی سائز کو پتنگ ساز تاء کہتے ہیں؛ تاوا کے سائز اسی کے نام پر ہیں
دستہروایتی گنتی میں 24 شیٹدکاندار رم کو اسی طرح چھوٹے حصوں میں بیچتے ہیں
رم480 شیٹ، یعنی 20 دستےلاہور کے ایک مینوفیکچرر نے ڈان کو بتایا؛ دفتری کاغذ کا رم بڑا ہوتا ہے

"پیپر رم کی قیمت" تلاش کرنے پر زیادہ تر دفتری فوٹو کاپی کاغذ ملتا ہے، جو پتنگ کے لیے بہت بھاری ہے۔ پتنگ کا کاغذ الگ چیز ہے، جو پتنگ کے سامان کے سپلائر لائسنس یافتہ پتنگ سازوں کو بیچتے ہیں۔

2026 میں پتنگ کا کاغذ کتنے کا ہے؟

واحد شائع شدہ رقم ایک مینوفیکچرر کی ہے: اکتوبر 2026 میں پتنگ کے کاغذ کا ایک رم 3,200 تا 3,800 روپے سے بڑھ کر 7,000 تا 14,000 روپے ہو گیا، یعنی تقریباً 15 تا 29 روپے فی شیٹ۔

اکتوبر 2026 میں رپورٹ ہونے والی پتنگ کے کاغذ کی لاگت (ایک مینوفیکچرر کے اعداد، ہماری قیمتیں نہیں)
چیزتاریخ بدلنے سے پہلےبعد میں
480 شیٹ کا رم3,200 تا 3,800 روپے7,000 تا 14,000 روپے
فی شیٹ (ہمارا حساب)تقریباً 7 تا 8 روپےتقریباً 15 تا 29 روپے

خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سا کاغذ مراد ہے، اور کسی ادارے نے جرمن پیپر کی الگ قیمت شائع نہیں کی۔ تیار پتنگوں کی مارکیٹ قیمتوں کے لیے قیمتوں کا ٹریکر دیکھیں: وہ بھی مارکیٹ کے مشاہدات ہیں، ہماری قیمتیں نہیں، اور ہم پتنگ کا کاغذ نہیں بیچتے۔

لاہور کی پتنگ کے کاغذ کی مارکیٹ میں کیا ہو رہا ہے؟

مانگ پچھلے سال سے کہیں زیادہ ہے: بسنت 2027 کے لیے 5,200 سے زائد پتنگ اور ڈور سازوں کو لائسنس مل چکے ہیں، تاریخیں بدلنے پر سامان مہنگا ہوا، اور پولیس بغیر لائسنس کام کرنے والوں پر چھاپے مار رہی ہے۔

  • زیادہ پتنگ ساز: 10 اکتوبر 2026 تک 5,200 سے زائد لائسنس، جبکہ بسنت 2026 کے لیے 1,337 تھے۔
  • لاگت: تاریخیں جنوری کی طرف جانے کے بعد ایک مینوفیکچرر کے مطابق کاغذ، بانس اور دھاگا تقریباً دگنے ہو گئے اور مزدوری بھی دگنی ہو گئی۔ اب تاریخیں دوبارہ مارچ (12 تا 14 مارچ 2027) میں ہیں؛ ابھی کوئی خبر نہیں کہ قیمتیں کم ہوئیں یا نہیں۔
  • سپلائی کا کیلنڈر: رجسٹرڈ مینوفیکچرر تہوار کے اختتام تک مال بنا سکتے ہیں، اور عوامی فروخت 10 فروری تا 14 مارچ 2027، صرف رجسٹرڈ دکانداروں سے ہوگی۔
  • چھاپے: پولیس بغیر لائسنس ورکشاپوں سے پتنگیں اور خام مال ضبط کر رہی ہے؛ 2026 میں اب تک پنجاب پولیس پتنگ بازی کے قانون کے تحت 11,397 گرفتاریاں بتاتی ہے۔
  • کوریئر نہیں: پنجاب میں پتنگیں اور ڈور اب ڈاک یا کوریئر سے نہیں جا سکتیں، اس لیے مال رجسٹرڈ تاجروں کے ذریعے آتا ہے۔

کیا پتنگ کے کاغذ سے پتنگ بنا کر بیچی جا سکتی ہے؟

صرف لائسنس کے ساتھ: پتنگ بنانے، رکھنے یا بیچنے والے ہر شخص کو ڈپٹی کمشنر کے پاس رجسٹریشن کروانا ہے، اور ہر پتنگ سرکاری سائز کی حد کے اندر ہونی چاہیے۔

تفصیل پڑھیں

مینوفیکچرر کی رجسٹریشن ای بز پنجاب پر آن لائن ہوتی ہے اور فیس 1,000 روپے ہے؛ طریقہ ہماری دکاندار اور مینوفیکچرر رجسٹریشن گائیڈ میں ہے۔ قانونی پتنگ زیادہ سے زیادہ 35 × 30 انچ اور گڈا زیادہ سے زیادہ 40 × 34 انچ کا ہو سکتا ہے؛ کسی بھی پتنگ کو پتنگ سائز چیکر سے جانچیں۔

بنانی نہیں، خریدنی ہے؟

تیار پتنگیں صرف رجسٹرڈ دکاندار سے فروخت کی مدت میں خریدیں: 10 فروری تا 14 مارچ 2027، صرف رجسٹرڈ دکانداروں سے۔ ہماری لاہور میں پتنگ کی دکان گائیڈ دکاندار کی جانچ کا طریقہ بتاتی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا پتنگ کا کاغذ اور ٹشو پیپر ایک ہی ہیں؟

لاہور میں عملاً ہاں: پتنگ کا کاغذ تقریباً 16 سے 24 گرام کا پتلا، رنگین ٹشو جیسا کاغذ ہے۔ بیرونِ ملک کرافٹ کی دکانیں کھڑکیوں کی سجاوٹ کے لیے ایک شفاف "کائٹ پیپر" بھی بیچتی ہیں، جو الگ چیز ہے۔

پتنگ کے کاغذ کے ایک رم میں کتنی شیٹ ہوتی ہیں؟

480 شیٹ، جیسا کہ لاہور کے ایک مینوفیکچرر نے اکتوبر 2026 میں ڈان کو بتایا؛ روایتی گنتی میں یہ 24 شیٹ کے 20 دستے بنتے ہیں۔

پتنگ کے کاغذ کی ایک شیٹ کا سائز کیا ہوتا ہے؟

زیادہ تر 20 × 30 انچ، جسے پتنگ ساز تاء کہتے ہیں؛ پتنگ کے تاوا سائز اسی شیٹ کے نام پر ہیں۔

پاکستان میں جرمن پیپر کی قیمت کیا ہے؟

کسی ادارے نے شائع نہیں کی۔ واحد رپورٹ شدہ رقم عام پتنگ کے کاغذ کے رم کی ہے: اکتوبر 2026 میں ایک مینوفیکچرر کے مطابق 7,000 تا 14,000 روپے۔

کیا پتنگیں یا پتنگ کا کاغذ کوریئر سے لاہور بھیجا جا سکتا ہے؟

پتنگیں اور ڈور نہیں: پاکستان پوسٹ نے بسنت 2027 سے پہلے پنجاب میں اپنے دفاتر کو ہدایت کی ہے کہ پتنگیں یا ڈور ڈاک، کوریئر یا آن لائن آرڈر کی ترسیل کے ذریعے نہ بھیجی جائیں، اور لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے کوریئر کمپنیوں اور ٹرانسپورٹ سروسز کے ذریعے لاہور میں پتنگ بازی کے سامان کی ترسیل پر پابندی لگا دی ہے۔ پتنگیں اور ڈور ڈاک یا کوریئر سے نہیں بھیجی جا سکتیں۔ ہم صرف اپنی رجسٹرڈ دکان پر خود بیچتے ہیں اور کبھی ڈیلیوری نہیں کرتے۔

حوالہ جات (29)

  1. Amjad Parvaiz — Patang: The Fighter Kite of Punjab, Pakistan: Material, Structure and Making (Khoj, University of the Punjab, 2018) (28 اکتوبر 2026)
  2. Amjad Parvez — Kites, Kite Flying and Kite Fighting in Punjab: Culture, Tradition and Basant (South Asian Studies, 2018)
  3. Al Jazeera — How Basant became Lahore's signature festival in Pakistan (7 فروری 2026)
  4. Dawn — Stakeholders see January Basant schedule unfeasible (6 اکتوبر 2026)
  5. Wikipedia — Units of paper quantity (the 480-sheet 'short' ream used for tissue paper)
  6. The Nation — Over 5,200 kite manufacturers licensed for Basant 2027 (12 اکتوبر 2026)
  7. City42 — بسنت 2027: مینوفیکچررز کو لائسنس کا اجراء جاری، درخواستوں کا انبار لگ گیا (10 اکتوبر 2026)
  8. The News (APP) — Over 5,200 kite makers issued licences for Basant 2027 (12 اکتوبر 2026)
  9. MM News — Gudda vs. Pari: a deep dive into the traditional shapes of Lahori kites (6 فروری 2026)
  10. Dawn — Pakistan Post imposes ban on transportation of kites, strings in Punjab (14 اکتوبر 2026)
  11. The Express Tribune — Pakistan Post tightens restrictions on kite deliveries (14 اکتوبر 2026)
  12. DC Office Lahore — courier and transport delivery of kite-flying material into Lahore banned (17 ستمبر 2026)
  13. Punjab Police — Punjab Police continue operations against violations of the Anti-Kite Flying Act (handout No. 551) (19 اکتوبر 2026)
  14. The News — 11,397 arrested over violation of Anti-Kite Flying Act this year (20 اکتوبر 2026)
  15. Government of Punjab, Basant Festival 2027 portal — Registration FAQs (15 اکتوبر 2026)
  16. Government of Punjab — Basant Festival 2027 portal: how registration works
  17. Dawn — Punjab notifies rules for kite flying on Basant (22 دسمبر 2025)
  18. The News — Formal permission granted to celebrate Basant (30 دسمبر 2025)
  19. APP — Official notification for Basant issued (29 دسمبر 2025)
  20. Punjab Basant portal (official) — Safety rules (15 اکتوبر 2026)
  21. Dawn — Lahore DC gives formal go-ahead for 3-day Basant festivities in March 2027, outlines conditions and restrictions (23 اکتوبر 2026)
  22. Dawn — Punjab reverts to three-day Basant fest in March (24 اکتوبر 2026)
  23. Pakistan Today — Lahore fixes Basant 2027 for March 12-14, imposing strict kite-flying rules (24 اکتوبر 2026)
  24. Express News — لاہور؛ بسنت کیلئے نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا (23 اکتوبر 2026)
  25. The Express Tribune — Punjab govt reschedules Basant 2027 in Lahore for second time, sets March dates (20 اکتوبر 2026)
  26. Dawn — Lahore to celebrate 10-day Basant festival from Jan 29 to Feb 7 next year (withdrawn plan) (30 ستمبر 2026)
  27. The Nation — Basant 2027 to be celebrated in Lahore from March 12 to 14 (August announcement) (18 اگست 2026)
  28. WE News — لاہور میں 12 سے 14 مارچ 2027 تک بسنت منانے کی باضابطہ اجازت، شرائط اور پابندیاں عائد (23 اکتوبر 2026)
  29. Daily Pakistan — DC Lahore proposes March 12–14 dates for Basant 2027 (material costs) (17 اکتوبر 2026)
واٹس ایپ ویٹ لسٹ میں شامل ہوں